Home
Image

پاور پلانٹس کو اربوں روپے کی ادائیگیاں کرنے کے باوجود پاکستان کے چھوٹے شہروں اور ٹاؤنز میں آج بھی آٹھ سے دس گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے تو پھر یہ مہنگا ترین نظام قائم کرنے کا فائدہ کیا ہُوا ؟

کیا یہ ضروری نہیں تھا کہ آئی پی پیز کو صرف بجلی پیدا کرنے تک محدود رکھنے کے بجائے اس بات کا بھی پابند کیا جاتا کہ وہ اپنے علاقے میں بجلی کی ترسیل اور تقسیم کا نظام بھی یقینی بنائیں گے تاکہ ملک کے چھوٹے سے چھوٹے علاقے تک بجلی پہنچائی جا سکے۔


ہمارا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا؟؟ (چوتھی قسط)


پچھلی تیسری قسط میں آپ نے بجلی کے پرائیویٹ پروڈیوسرز یعنی آئی پی پیز کے بارے میں پڑھا تھا۔ یہ وہ نجی کمپنیاں ہیں جو بظاہر معاہدوں کے تحت پاکستان میں بجلی پیدا کرتی ہیں، لیکن عملی طور پر ہو کیا رہا ہے اور انہیں قائم رکھنے کے لیے جو اخراجات کیے جا رہے ہیں وہ کس طرح عوام پر منتقل ہو رہے ہیں؟
اس حوالے سے میں نے تیسری قسط میں کچھ بنیادی موازنہ بھی پیش کیا تھا۔


اب چوتھی قسط میں اپنی بات کو آگے بڑھانے سے پہلے میں آپ کی توجہ ایک اہم عالمی مثال کی طرف دلانا چاہوں گا، اور وہ ہے نائیجیریا۔۔


1970 کی دہائی میں نائیجیریا میں تیل دریافت ہوا۔ تیل کی دریافت نے دنیا کے کئی ملکوں کی معیشت بدل دی۔ بہت سے ممالک میں تیل نکلنے کے بعد قومی آمدن بڑھی، انفراسٹرکچر بہتر ہوا، روزگار کے مواقع پیدا ہوئے اور عوام کے معاشی حالات میں نمایاں بہتری آئی۔ لیکن نائیجیریا میں منظر مختلف تھا۔ وہاں تیل کی دولت نے پوری قوم کو خوشحال بنانے کے بجائے اقتدار کے گرد جمع ایک محدود طبقے کو مزید طاقتور اور مالدار بنا دیا۔


اس دور میں نائیجیریا پر فوجی حکمرانوں، طاقتور بیوروکریٹس، اعلیٰ اشرافیہ، بعض سیاست دانوں اور چند بااثر کاروباری طبقات کا غلبہ تھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ قومی وسائل کا بہاؤ عوام کی طرف جانے کے بجائے انہی حلقوں میں سمٹتا چلا گیا۔ عام لوگ غربت، محرومی اور پسماندگی میں جکڑے رہے، جبکہ اقتدار سے قریب طبقات امیر سے امیر تر ہوتے گئے۔


خصوصاً جنرل سانی اباچا
‏(General Sani Abacha)
کے دور 1993 سے 1998 کے درمیان نائجیریا میں کرپشن اپنی انتہا کو پہنچ گئی۔ اسی عرصے میں اندازاً دو سے پانچ ارب ڈالر تک کی رقم ریاستی خزانے سے منظم طریقے سے نکال کر بیرون ملک منتقل کی گئی۔ یہ رقوم سوئٹزرلینڈ کے بینکوں، برطانیہ اور یورپ کے اکاؤنٹس، اور امریکہ میں جائیدادوں، لگژری پراپرٹیز اور دیگر سرمایہ کاری میں لگائی گئیں۔ بعد ازاں جب اس معاملے پر عالمی سطح پر توجہ دی گئی تو تحقیقات سامنے آئیں جن میں ورلڈ بینک کی Stolen Asset Recovery Initiative (StAR) رپورٹ اور بین الاقوامی میڈیا جیسے بی بی سی اور رائٹرز کی تحقیقات شامل ہیں، جس میں ایک ریاست کے سربراہ نے اربوں ڈالر عالمی مالیاتی نظام کے ذریعے منتقل کیے۔ بعد میں عالمی دباؤ اور قانونی کارروائی کے نتیجے میں سوئٹزرلینڈ سے تقریباً 1.3 ارب ڈالر واپس آئے جبکہ امریکہ، برطانیہ اور دیگر ممالک سے بھی مزید رقوم واپس ہوئیں، اور مجموعی طور پر تقریباً تین ارب ڈالر نائجیریا کو واپس ملے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کیس دنیا بھر میں “Abacha loot” کے نام سے مشہور ہوا۔


افریقی ممالک میں نائیجیریا ایک ایسی نمایاں مثال بن کر سامنے آیا جہاں قدرتی وسائل کی کوئی کمی نہ تھی، مگر عام آدمی ان وسائل کے ثمرات سے محروم رہا۔ یہ سب کچھ دنیا کے سامنے ہو رہا تھا کہ ایک طرف تیل کی دولت موجود ہے اور دوسری طرف عوام بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔
اسی پس منظر میں نائجیریا جیسے ممالک کے لیے اس دور میں ایک اصطلاح عالمی سطح پر نمایاں ہوئی جسے کلیپٹوکریسی (Kleptocracy) کہا جاتا ہے۔


کلیپٹوکریسی (Kleptocracy)۔ یہ محض ایک اصطلاح نہیں بلکہ ایک ایسا نظام حکومت ہے جس میں ریاستی طاقت کو عوام کی خدمت کے بجائے ان کے وسائل نکالنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس نظام میں ریاستی وسائل عوام کی فلاح کے بجائے حکمران طبقے کی لوٹ مار کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ ریاستی وسائل کا بہاؤ عوام کی طرف جانے کے بجائے حکمرانوں، طاقتور گروپس اور مخصوص کاروباری حلقوں کی طرف مڑ جائے۔ یعنی یہ صرف رشوت یا بدعنوانی نہیں ہوتی بلکہ ایک باقاعدہ ساخت ہوتی ہے جس میں پالیسیاں، معاہدے، اور مالیاتی فیصلے سب اسی سمت میں ترتیب دیے جاتے ہیں۔


کلیپٹوکریسی دراصل یونانی زبان کے دو الفاظ سے نکلا ہے، “Klepto” یعنی چوری اور “Cracy” یعنی حکومت، یعنی ایک ایسا نظامِ حکومت جہاں اقتدار میں بیٹھے لوگ قانون، پالیسی اور ریاستی ڈھانچے کو اس طرح استعمال کرتے ہیں کہ دولت آہستہ آہستہ عوام سے نکل کر ایک محدود طبقے کے ہاتھوں میں منتقل ہوتی رہے۔
کلیپٹوکریسی میں قانون خود اس طرح بنایا جاتا ہے کہ وہ عوام کے بجائے مخصوص مفادات کو تحفظ دے، اور یہی اس نظام کی سب سے پیچیدہ اور خطرناک شکل ہے کیونکہ یہاں استحصال نظر بھی آتا ہے مگر ثابت کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔


کلیپٹوکریسی کی سب سے بڑی طاقت یہ ہوتی ہے کہ یہ اپنے دفاع کے لیے ایک پورا طبقہ، یعنی Beneficiaries پیدا کر لیتی ہے۔ بیوروکریسی سے لے کر کاروباری حلقوں تک، ہر وہ شخص جو اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتا ہے، وہ اس گلے سڑے نظام کو بچانے کے لیے ایک مضبوط ڈھال بن جاتا ہے۔


یہی اس کا اصل المیہ ہے کہ یہاں بدعنوانی کوئی اتفاقی نتیجہ، یعنی By-product نہیں رہتی بلکہ خود نظام کا مقصد وجود، یعنی Reason for being بن جاتی ہے۔ ایسے میں اصلاح کی ہر کوشش اس لیے کمزور پڑ جاتی ہے کیونکہ مسئلہ کسی ایک خرابی کا نہیں ہوتا بلکہ پوری مشین ہی اسی طرح بنائی گئی ہوتی ہے کہ وہ غلط کام کو جاری رکھے۔


اب میں کلیپٹوکریسی کے تصور کے ساتھ پاکستان میں بجلی کے نظام اور عوام کو بھیجے جانے والے بجلی کے بلوں پر اپنی تحقیق کے اصل موضوع کی طرف واپس آتا ہوں۔
حکومت پاکستان ہر سال تقریباً تین ہزار ارب روپے ان پاور پلانٹس کو ادا کرتی ہے جن کی مجموعی صلاحیت سولہ سے اٹھارہ ہزار میگاواٹ ہے، حالانکہ یہ اکثر اپنی مکمل صلاحیت پر بھی نہیں چلتے اور کم بجلی پیدا کرنے کے باوجود بھی انہیں اربوں روپے کی ادائیگیاں جاری رہتی ہیں۔


ہم اگر پچھلے چھ مہینوں کا ملک میں لوڈ شیڈنگ کا جائزہ لیں تو اسلام آباد، لاہور اور فیصل آباد جیسے شہروں کو نکال کر کراچی، خیبر پختونخوا، اندرون سندھ اور بلوچستان کے کئی علاقوں میں آٹھ سے بارہ گھنٹے تک بجلی کی لوڈ شیڈنگ بھی تواتر سے دیکھی جاتی رہی ہے۔ اس سے بڑی انتظامی بد نظمی شاید ہی کہیں ہو کہ آئی پی پیز کو ادائیگیاں تو ہوتی رہیں مگر بجلی کو ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کے نظام کے ذریعے دور علاقوں تک پہنچانے کا مؤثر انتظام 1994 سے آج تک نہیں کیا جا سکا۔ نتیجتاً صلاحیت موجود ہونے کے باوجود بجلی ضائع ہوتی رہی ہے اور عوام کو دس سے بارہ گھنٹے لوڈ شیڈنگ بھی برداشت کرنا پڑی، اور اپنے بلوں میں فکسڈ چارجز اور FC سرچارج کی خطیر رقم آئی پی پیز کو دینے کے لیے الگ سے ادا کرنا پڑی۔


یعنی ایک وقت تھا جب لوگوں کی شکایت صرف لوڈ شیڈنگ تک محدود تھی، لیکن فائدہ یہ تھا کہ اگر بجلی کم استعمال ہوتی تھی تو بل بھی کم آتا تھا، کیونکہ صرف استعمال شدہ یونٹس کی بجلی کی قیمت دینا پڑتی تھی۔ مگر اب صورتحال یہ ہو گئی ہے کہ لوڈ شیڈنگ بھی برداشت کرنا پڑتی ہے اور بجلی کے بلوں میں فکسڈ چارجز اور فیول کاسٹ سرچارج جیسے اضافی بوجھ بھی ادا کرنا پڑتے ہیں۔ اس طرح عوام نہ صرف بجلی کی کمی برداشت کر رہے ہیں بلکہ حکمرانوں کی ماضی کی غلط پالیسیوں کی قیمت بھی ادا کر رہے ہیں۔
(باقی اگلی قسط 5 میں پڑھیے۔)

 

0
Views
38
14

مزید زمینی حقائق

Image

ثابت کیا جاۓ کہ نیٹ میٹرنگ توانائی بحران کی اصل وجہ ہے. حکومت اعداد و شمار شائع کرے۔

پاکستان میں آج کل بجلی اور سولر کے معاملے پر جو بحث جاری ہے، اسے بہتر طور پر سمجھنے کے لیے ہمیں اسپین کے سولر بحران کا مطالعہ ایک اہم مثال فراہم کرتا ہے۔ یہ واقعہ آج بھی دنیا بھر کے پالیسی سازوں کے...


Image

مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ نیٹ میٹرنگ پالیسی میں تبدیلی پر چیئرمین نیپرا کو گرفتار کیا جائے

سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ چیئرمین نیپرا کو سینیٹ میں طلب کیا جائے اور انہیں جیل بھیجا جائے، کیونکہ ان کے بقول وہ ایک خودمختار ریگولیٹر کے طور پر کام کرنے کے بجائے حکومتی ہدایات کے تحت فیصلے کر رہے ہ...


Image

اسلام آباد میں 80 ہزار سے زائد درختوں کی کٹائی کا معاملہ:

اسلام آباد میں پولن الرجی کے مسئلے کے خاتمے کے لیے اس وقت پیپر ملبری( جنگلی شہتوت) کے درختوں کی کٹائی ہر ایک بڑی اور متنازع مہم جاری ہے۔ اور عدالتی اور عوامی سطح پر بحث کا باعث بنی ہوئی ہے، کیونک...


Image

پائپ لائن گیس یا سلنڈر گیس؟

▫️ ہم ایک مضبوط پائپ لائن نیٹ ورک سے غیر محفوظ سلنڈر کلچر کی طرف کیوں جا رہے ہیں؟ ▫️ دنیا کے بیشتر ترقی یافتہ ممالک میں رہائشی گھروں کے اندر گیس سلنڈر رکھنا سخت ضابطوں کے تحت محدود یا عملاً ممنوع ...


Image

پنجاب میں شہروں کی زوننگ تبدیل کر کے دولت بنانے کا نیا کھیل: کس کو فائدہ، کس کو نقصان؟

ریذیڈنشل علاقوں کو کمرشل میں بدلنے کا کاروبار کون فیصلے کر رہا ہے؟ کون فائدہ اٹھا رہا ہے؟ اس کا شہر پر، ٹریفک پر، اور عام شہری پر کیا اثر ہو رہا ہے ایک رہائشی علاقے میں سرکاری و کمرشل دفاتر کا ق...


مصنف کے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے آرٹیکلز

Article Image

سمجھدار قیادت گالی کا جواب کبھی طاقت یا سختی سے نہیں، عقلمندی سے دیتی ہے۔

لاہوری چاچا، ایک شخص نہیں، ایک استعارہ بن گیا ہے، ایک ایسا آئینہ جس میں بہت سے من چلے اور مایوس افراد اپنا چہرہ دیکھ رہے ہیں۔


Article Image

دریا کی زمین ۔ پہلی قسط

لاہور میں دریا کی زمین (River Bed) پر ہاؤسنگ اسکیمیں بنانے کا انکشاف ▫️پارک ویو سوسائٹی اور Ruda (راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی) کی منظور شدہ سوسائیٹیز کا مستقبل کیا ہے؟


Article Image

کیا قربانی جانوروں کی نسل کو خطرے میں ڈال رہی ہے یا ان کی افزائش میں مدد دیتی ہے؟

پاکستان میں ہر سال عید الاضحیٰ کے موقع پر لاکھوں جانور قربان کیے جاتے ہیں۔ سال 2024 میں، پاکستان ٹینرز ایسوسی ایشن کے مطابق تقریباً 68 لاکھ (6.8 ملین) جانور قربان کیے گئے، جن کی تفصیل درج ذیل ہے: