پبلشنگ کی تاریخ:
13 جنوری, 2026
مطالعہ کا دورانیہ: ⏱ 10 منٹ
مطالعہ کا دورانیہ: ⏱ 10 منٹ
کل مطالعے کا دورانیہ: 7 گھنٹے 43 منٹ (اب تک 46 قارئین نے یہ اردو مضمون پڑھا ہے )
پائپ لائن گیس یا سلنڈر گیس؟
▫️ ہم ایک مضبوط پائپ لائن نیٹ ورک سے غیر محفوظ سلنڈر کلچر کی طرف کیوں جا رہے ہیں؟
▫️ دنیا کے بیشتر ترقی یافتہ ممالک میں رہائشی گھروں کے اندر گیس سلنڈر رکھنا سخت ضابطوں کے تحت محدود یا عملاً ممنوع ہے، کیونکہ اسے غیر محفوظ اور حادثات کا باعث سمجھا جاتا ہے۔
▫️ عالمی سطح پر توانائی کی پالیسی کا سفر گیس سلنڈر سے پائپ لائن گیس کی طرف جا رہا ہے، کیونکہ پائپ لائن ایک کنٹرولڈ، قابلِ نگرانی اور نسبتاً محفوظ نظام ہے۔
▫️ اس کے برعکس پاکستان میں پائپ لائن گیس کے کنکشن محدود کیے جا رہے ہیں اور عملاً عوام کو گیس سلنڈر کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ یوں محفوظ نظام سے غیر محفوظ متبادل کی طرف ایک الٹا سفر جاری ہے، جو شہری تحفظ، انجینئرنگ اور حکومتی ذمہ داری کے اصولوں کے برعکس ایک خطرناک تضاد پیدا کر رہا ہے۔ اس کی واضح مثال اسلام آباد میں شادی والے گھر میں سلنڈر دھماکے سے ہونے والی اموات ہیں۔
▫️ اس سے بڑا ظلم ریاست میں اور کیا ہو سکتا ہے کہ سوئی گیس کا محکمہ زبردستی لوگوں کی گیس لائنیں کاٹ کر انہیں سلنڈر مہیا کر رہا ہے۔
اسلام آباد میں ایک شادی والے گھر میں گیس سلنڈر کے پھٹنے سے دولہا دلہن سمیت آٹھ افراد کی ہلاکت کا سانحہ ہی وہ محرک بنا جس نے مجھے یہ مضمون لکھنے پر مجبور کر دیا۔ یہ وزارتِ گیس و توانائی کی سنگین غفلت ہے، جس پر خاموش رہنا ممکن نہیں۔
دنیا کے متعدد ترقی یافتہ ممالک میں رہائشی گھروں کے اندر گیس سلنڈر رکھنا یا استعمال کرنا براہِ راست یا بالواسطہ طور پر قانونی خلاف ورزی یا قابلِ سزا عمل کے زمرے میں آتا ہے۔ مثال کے طور پر جاپان، جرمنی، فرانس اور نیدرلینڈز میں اپارٹمنٹس اور رہائشی عمارتوں کے اندر LPG یا گیس سلنڈر رکھنا بلڈنگ اور فائر سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی سمجھا جاتا ہے، جس پر جرمانہ، کنکشن منقطع ہونا اور بعض صورتوں میں فوجداری کارروائی بھی ہو سکتی ہے۔ اسی طرح برطانیہ، امریکہ اور کینیڈا میں رہائشی عمارتوں میں سلنڈر کا استعمال فائر اور ہیلتھ سیفٹی قوانین کے تحت سختی سے ممنوع ہے، اور کسی حادثے کی صورت میں یہی عمل سنگین قانونی خلاف ورزی کے زمرے میں آ جاتا ہے۔
کچھ عرصہ پہلے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے بھی نئے رہائشی عمارتوں میں گھریلو ایل پی جی سلنڈر استعمال پر پابندی لگا دی ہے۔ نئے تعمیر شدہ مکانات میں گیس سلنڈر کی اجازت نہیں دی جاتی بلکہ پائپ لائن گیس یا بجلی کے چولہے لازمی ہیں، اور ایسے عمارتوں کو عمارت کا اجازت نامہ نہیں دیا جاتا جہاں LPG سلنڈر استعمال ہو۔
یہی وجہ ہے کہ تمام ترقی یافتہ ممالک میں گیس سلنڈر کو گھریلو ماحول کے لیے غیر محفوظ سمجھتے ہوئے یا تو قانون کے ذریعے سختی سے محدود کر دیا گیا ہے یا عملی طور پر ختم کر دیا گیا ہے، اور کوئی بھی ریاست اپنے شہری کو ایسے نظام پر مجبور نہیں کرتی جو جان لیوا ثابت ہو سکتا ہو۔ اس کے برعکس پاکستان میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ واقعی انتہائی کرب اور عبرت کا مقام ہے، جہاں ایک سرکاری ادارہ محفوظ اور کنٹرولڈ پائپ لائن گیس کے بجائے شہریوں کو غیر محفوظ گیس سلنڈر کی طرف دھکیلتا دکھائی دیتا ہے۔
یہاں سوال یہ نہیں کہ پاکستان میں گیس کی کمی ہے یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے سوئی گیس کے محکمے میں اعلیٰ افسران اس بات کا ادراک رکھتے ہیں کہ وہ نصف صدی سے آزمودہ پائپ لائن گیس نیٹ ورک کا حفاظتی نظام ختم کر کے شہریوں کی جانوں کو براہِ راست خطرے میں ڈال رہے ہیں؟
پاکستان میں ہم ایک ایسے وقت میں، جب دنیا خطرناک گیس سلنڈرز سے جان چھڑا رہی ہے، اپنے ملک کے پائپ لائن سسٹم کو، جسے دنیا کے محفوظ ترین گیس لائن نیٹ ورکس میں سے ایک سمجھا جاتا ہے، اس سے پیچھے ہٹ کر دوبارہ غیر محفوظ سلنڈر کلچر کی طرف لوٹتے دکھائی دے رہے ہیں۔
آج دنیا میں گھریلو استعمال کے لیے گیس کے تین بنیادی ذرائع رائج ہیں: نیچرل گیس (Natural Gas)، لیکویفائیڈ پیٹرولیم گیس (LPG) اور بایو گیس (Biogas)، جن کی نوعیت اور استعمال ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ نیچرل گیس پائپ لائن کے ذریعے فراہم کی جاتی ہے اور نسبتاً محفوظ و کنٹرولڈ نظام رکھتی ہے، اسی لیے شہری گھروں کے لیے بنیادی ذریعہ سمجھی جاتی ہے۔ اس کے برعکس LPG سلنڈروں میں بھری جاتی ہے، گھریلو ماحول میں زیادہ خطرناک مانی جاتی ہے اور دنیا بھر میں اسے صنعت، دیہی علاقوں یا بیک اپ استعمال تک محدود رکھا جاتا ہے، جبکہ بایو گیس ایک مقامی اور ماحول دوست ذریعہ ہے جو عموماً دیہی یا کمیونٹی سطح تک مؤثر رہتی ہے۔
پاکستان میں بھی محفوظ توانائی پالیسی کا تقاضا یہی ہے کہ نیچرل گیس کو شہری گھریلو نظام کی بنیاد بنایا جائے، LPG کو محدود اور کنٹرولڈ استعمال تک رکھا جائے، اور بایو گیس کو دیہی خود کفالت کے لیے فروغ دیا جائے، کیونکہ توانائی کا محفوظ استعمال ہی انسانی جانوں کے تحفظ کی ضمانت ہے۔
سوئی گیس کے محکمے کی جانب سے گھریلو صارفین کی گیس لائنیں منقطع کر کے انہیں گیس سلنڈر کے استعمال پر مجبور کرنا ایک نہایت تشویشناک اور خطرناک اقدام ہے۔ عالمی سطح پر گھریلو گیس سلنڈر کو غیر محفوظ تصور کیا جاتا ہے، خصوصاً گنجان آباد رہائشی علاقوں میں، جہاں معمولی غفلت بھی بڑے جانی اور مالی نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یورپی ممالک سمیت دنیا کے ترقی یافتہ معاشروں میں رہائشی علاقوں کے لیے پائپ لائن گیس یا بجلی کے ذریعے کھانا پکانے کو ترجیح دی گئی، تاکہ آگ لگنے، دھماکوں اور انسانی جانوں کے ضیاع کے خطرات کو کم سے کم رکھا جا سکے۔
یہاں ایک اور سنگین تضاد بھی سامنے آتا ہے۔ ہمارے شہروں میں آرکیٹیکٹس اور پلانرز آج بھی گھروں کو پائپ لائن گیس کے مطابق ڈیزائن کرتے ہیں۔ کچن کی وینٹیلیشن، گیس ڈکٹ، شافٹس اور حفاظتی فاصلوں کا پورا تصور اسی بنیاد پر ہوتا ہے کہ گیس ایک مستقل، کنٹرولڈ لائن سے آئے گی۔ جب اسی ڈیزائن شدہ مکان میں اچانک سلنڈر رکھ دیا جاتا ہے تو یہ پورا حفاظتی تصور ٹوٹ جاتا ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کسی عمارت کو لفٹ کے لیے ڈیزائن کیا جائے اور بعد میں اس میں رسّی کے سہارے چلنے والا نظام لگا دیا جائے۔ تو پھر تباہی تو مقدر بنے ہی گی۔
اس مضمون کی تیاری کے دوران سوئی گیس کے محکمے کے بعض افسرانِ بالا نے دورانِ گفتگو مجھ سے یہ مؤقف اختیار کیا کہ ملک میں قدرتی گیس (Natural Gas) کے ذخائر کم ہو رہے ہیں اور اسی قلت کے باعث نئی ہاؤسنگ اسکیموں کو گیس کنکشن نہیں دیے جا رہے،
لیکن اگر ریاست واقعی توانائی کے مسئلے کو منطقی انداز میں حل کرنا چاہتی تو درست راستہ یہ تھا کہ گھریلو سطح پر نسبتاً محفوظ پائپ لائن گیس کو برقرار رکھا جاتا اور صنعتی یا کمرشل استعمال کو متبادل ایندھن مثلاً ایل پی جی (LPG) کی طرف منتقل کیا جاتا، کیونکہ صنعت میں حفاظتی نظام، کنٹرولڈ ماحول اور تربیت یافتہ عملہ موجود ہوتا ہے۔ اس کے برعکس جو عملی پالیسی اختیار کی گئی ہے، اس کے تحت بلڈرز کو گیس پائپ لائن بچھانے سے آزاد کر دیا گیا ہے اور رہائشیوں کو غیر محفوظ ایل پی جی سلنڈر استعمال کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے، حالانکہ ان سلنڈروں کے معیار، تیاری اور فروخت کے لیے کوئی مؤثر اور سخت قانون نافذ نہیں۔ نتیجتاً گھٹیا لوہے سے بنے سلنڈر مارکیٹ میں عام دستیاب ہیں۔
مزید یہ کہ اگر گھریلو گیس واقعی بند کی جا رہی تھی تو بجلی کو اتنا سستا بنایا جانا چاہیے تھا کہ لوگ قدرتی طور پر انڈکشن ککنگ (Induction Cooking) اور الیکٹرک ہیٹنگ کی طرف منتقل ہو جاتے، مگر بجلی کی قیمتیں اس قدر زیادہ ہیں کہ عام آدمی کے پاس یا تو سلنڈر استعمال کرنے یا لکڑی جلانے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچتا، خاص طور پر کثیر المنزلہ اپارٹمنٹ بلڈنگز میں جہاں سلنڈر لے جانا اور رکھنا کھلا خطرہ ہے، اس کے باوجود وہاں سنٹرلائزڈ ایل پی جی سسٹم (Centralized LPG System) کو لازمی قرار نہیں دیا گیا، حالانکہ دنیا بھر میں جدید رہائشی منصوبہ بندی میں توانائی کی فراہمی انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی اور کنٹرولڈ نظام کے تحت کی جاتی ہے اور اسی لیے یا تو پائپ لائن گیس، یا مرکزی ٹینک سسٹم، یا مکمل طور پر برقی کوکنگ کو ترجیح دی جاتی ہے، جبکہ اس کے برعکس پائپ لائن سے سلنڈر کی طرف سفر کسی اصلاح یا ترقی کی علامت نہیں بلکہ واضح پالیسی پسپائی ہے
جس کا ایک ثبوت اسلام آباد میں جنوری 2026 کو ایک شادی والے گھر میں ایل پی جی دھماکے سے دولہا دلہن سمیت 8 افراد ہلاک اور 12 زخمی ہوۓ ہیں جبکہ اس دلخراش سانحے سے پہلے بھی 2015 سے 2025 تک ملک بھر میں سلنڈر پھٹنے کے 214 واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں جن میں 447 افراد ہلاک اور 1,302 زخمی ہوئے، جبکہ انڈر رپورٹنگ کے باعث حقیقی تعداد اس سے زیادہ ہو سکتی ہے۔
یہ اعداد و شمار ایک اکیڈمک تحقیقی مقالے پر مبنی ہیں جس کا عنوان “Gas Cylinder Explosions in Pakistan: A Decade Long Retrospective Analysis (2015–2025)” ہے، جو اکتوبر 2025 میں ResearchGate پر شائع ہوا اور یہی تحقیق انٹرنیشنل ایمز کان (International AIMSCon) 2025 میں پیش کی گئی
اپنے اس مضمون کے اختتام پر میرا پڑھنے والوں سے سوال یہ ہے کہ کیا عوام کو متحد ہو کر نئی ہاؤسنگ اسکیموں اور رہائشی اپارٹمنٹ بلڈنگوں میں سنٹرلائزڈ گیس سسٹم کے نفاذ کا مطالبہ نہیں کرنا چاہیے؟؟؟
3
Views
46
hi
ok
mansoor.