Home
Image

دوسری قسط: سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے اپنے پانچ سالوں میں کیا کیا؟؟

پانچ سال مکمل ہونے پر سی بی ڈی پنجاب کے لیے یہ ایک سنہرا موقع ہے کہ وہ اپنی کارکردگی پر ایک جامع، مستند اور دستاویزی وائٹ پیپر جاری کرے۔


اس وائٹ پیپر میں لاہور کے ہر منصوبے کی مکمل تفصیل شامل ہونی چاہیے۔ ہر پراجیکٹ کی مجموعی لاگت، ابتدائی اور نظرثانی شدہ مدت، متعلقہ کنٹریکٹرز، طے شدہ ڈیلیور ایبلز اور اب تک کی عملی پیش رفت واضح طور پر بیان کی جائے۔


اسی طرح لاہور سے باہر پنجاب کے دیگر شہروں کے بارے میں بھی مکمل شفافیت اختیار کی جائے۔ بتایا جائے کہ کن شہروں میں کون سے منصوبے شروع کیے گئے، وہ کس مرحلے میں ہیں، ان پر کتنی پیش رفت ہو چکی ہے، اور مستقبل کی ٹائم لائن کیا ہے۔


یہ بھی واضح کیا جائے کہ اب تک عوام اور نجی سرمایہ کاروں سے کتنی رقم وصول کی گئی، اس کی شرائط کیا تھیں، اور وہ سرمایہ کہاں اور کیسے خرچ ہوا۔


معاہدے کے تحت اتھارٹی نے حکومت پنجاب کے ریونیو ڈیپارٹمنٹ کو ان پانچ سالوں میں ہر سال وصول شدہ رقم کا کتنے فیصد ادا کیا؟


اوورسیز پاکستانیوں کی ہونے والی سرمایہ کاری کا الگ باب مختص کیا جائے جس میں ان کی شمولیت، سرمایہ کے حجم اور منصوبوں کی موجودہ حیثیت کی تفصیل دی جائے۔


سب سے اہم سوال یہ ہے کہ جب اس اتھارٹی کا دائرہ کار لاہور سے بڑھا کر پورے پنجاب تک پھیلا دیا گیا، تو پانچ سال بعد دوسرے شہروں میں اس توسیع کے عملی نتائج کیا نکلے۔ کیا ادارہ واقعی صوبائی سطح کی اتھارٹی بن سکا یا اس کی سرگرمیاں اب بھی لاہور تک محدود ہیں۔


اگر سی بی ڈی پنجاب ایک مضبوط اور باوقار مثال قائم کرنا چاہتا ہے تو اب وقت ہے کہ وہ اپنی مکمل کارکردگی اعداد و شمار کے ساتھ جامع رپورٹ عوام کے سامنے رکھے۔ اس سے قیاس آرائیاں ختم ہوں گی بلکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی مضبوط ہوگا۔


گزشتہ پانچ برسوں میں سی بی ڈی پنجاب کے بعض منصوبوں میں زمینوں کی ملکیت اور قانونی حیثیت سے متعلق سوالات اٹھے۔ 2024 میں معاملہ نیب انکوائری تک پہنچا، جبکہ آڈیٹر جنرل (صوبائی آفس) کی رپورٹ میں مالی اختیارات، ریکوری اور پروکیورمنٹ کے حوالے سے اوورپیمنٹ، عدم وصولی اور سرکاری نقصان کے ٹھوس اعتراضات درج ہوئے، نیز سینئر افسران کی مراعات پر بھی بحث سامنے آئی۔


تاہم مکمل اور قابلِ تصدیق اعداد و شمار کی منظم اشاعت ہی ان ابہامات کو ختم کر سکتی ہے۔
ایک جامع اور آڈٹ شدہ وائٹ پیپر ان قیاس آرائیوں کا مؤثر جواب بن سکتا ہے۔ اگرچہ ادارے کی جانب سے وقتاً فوقتاً ان الزامات کی وضاحتیں بھی دی جاتی رہی ہیں، لیکن ہم امید کرتے ہیں کہ سی بی ڈی پنجاب مزید شفافیت اختیار کرے گی تاکہ اس کی کارکردگی پر اٹھنے والے سنجیدہ سوالات کا حتمی ازالہ ہو سکے۔


بین الاقوامی سطح پر بڑے شہری ترقیاتی ادارے شفافیت کے لیے چند بنیادی اقدامات اختیار کرتے ہیں۔

وہ سالانہ اور پانچ سالہ کارکردگی رپورٹس شائع کرتے ہیں جن میں مالیاتی آڈٹ شدہ گوشوارے شامل ہوتے ہیں۔
ہر بڑے منصوبے کے لیے پروجیکٹ ڈیش بورڈ بنایا جاتا ہے جہاں لاگت، پیش رفت اور مکمل ہونے کی متوقع تاریخ عوامی طور پر دستیاب ہوتی ہے۔
کنٹریکٹس اور ٹینڈر ایوارڈز کی تفصیلات کھلے ڈیٹا کی صورت میں فراہم کی جاتی ہیں تاکہ کسی بھی شہری یا محقق کو جانچ کا موقع مل سکے۔
آزاد آڈٹ فرمز یا پارلیمانی کمیٹیوں کے ذریعے کارکردگی کا بیرونی جائزہ لیا جاتا ہے۔ اسٹیک ہولڈر کنسلٹیشن کی کارروائیوں کو ریکارڈ کر کے ویب سائٹ پر اپ لوڈ کیا جاتا ہے۔
سرمایہ کاروں اور شہریوں کے لیے سوال و جواب کا باضابطہ نظام بنایا جاتا ہے،
اور بڑے منصوبوں کی امپیکٹ اسیسمنٹ رپورٹ Impact Assessment Report شائع کی جاتی ہے۔


کسی بھی سرکاری یا نیم سرکاری ادارے کے لیے عوامی اعتماد ہی اس کا اصل سرمایہ ہوتا ہے، اور جب بات CBD جیسی بڑی ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی ہو تو شفافیت کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ پانچ سال بعد قابلِ تصدیق اعداد و شمار عوام کے سامنے لانا نہ صرف وقت کا اہم تقاضا ہے بلکہ جدید گورننس اسٹینڈرڈ کا لازمی حصہ بھی ہے۔
اس ڈیٹا کا پبلک ڈومین میں آنا اب ضروری امر ہے۔
اب ہم اپنے تجزیے کی طرف واپس آتے ہیں۔


سی بی ڈی کے پانچ سال مکمل ہونے پر سب سے بنیادی سوال یہ اٹھتا ہے کہ اس پراجیکٹ کے افتتاح 26 فروری 2021 کے بعد اتھارٹی کی جانب سے بارہا یہ کہا جاتا رہا کہ دو سال کے اندر اس پراجیکٹ کا مکمل انفراسٹرکچر تیار کر کے اسے انویسٹرز اور بلڈرز کے حوالے کر دیا جائے گا تاکہ وہ اپنی اپنی تعمیرات شروع کر سکیں، اور پانچ سال میں ہم یہاں ایک سو اسکائی اسکریپر اور ہائی رائز عمارتیں تعمیر کریں گے۔


آج جب پانچ سال مکمل ہو چکے ہیں تو یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ ان وعدوں کی عملی صورت کیا بنی۔ اگر ہدف ایک سو عمارتوں کا تھا تو موجودہ صورتحال میں ابھی تک ایک بھی عمارت مکمل نہیں ہو سکی۔
زمینی حقائق ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ نمایاں طور پر صرف کار پارکنگ پلازہ کی ایک عمارت یہاں زیر تعمیر ہے جو اس منصوبے کے مین بلیوارڈ پر واقع ہے۔ اس کے علاوہ تقریباً ساڑھے چار کلومیٹر طویل مین بلیوارڈ سڑک، جسے روٹ سینتالیس بھی کہا جاتا ہے، حال ہی میں مکمل کی گئی ہے اور یہ گلبرگ، کلمہ چوک سے شروع ہو کر والٹن روڈ تک جاتی ہے۔


سی بی ڈی کے اپنے پانچ سالہ عرصے میں تقریباً ساڑھے چار کلومیٹر طویل اس ایک سڑک کی تکمیل کو دیکھ کر مجھے برصغیر  کے عظیم حکمران شیر شاہ سوری کی یاد آتی ہے جنہوں نے اپنے پانچ سال سے بھی کم دورِ حکومت میں کابل سے بنگال تک پھیلی ہوئی عظیم شاہراہ جی ٹی روڈ کو ازسرِ نو تعمیر کروایا تھا، جسے بعد میں گرینڈ ٹرنک روڈ یا جرنیلی سڑک کے نام سے جانا گیا۔ تاریخی حوالوں میں اس کی لمبائی تقریباً ڈھائی ہزار سے تین ہزار کلومیٹر کے درمیان بیان کی جاتی ہے۔


یاد رہے کہ شیر شاہ سوری نے صرف سڑک ہی تعمیر نہیں کروائی تھی بلکہ اس کے اطراف مسافروں کے قیام کے لیے سرائیں قائم کیں، پانی کی فراہمی کے لیے کنویں کھدوائے اور سایہ دار درخت لگوائے تاکہ سفر محفوظ اور آسان بنایا جا سکے۔


🔸 اس مضمون میں شائع کی گئی تصویر وہ تصوراتی خاکہ ہے جو سی بی ڈی انتظامیہ نے منصوبے کے آغاز پر اپنی تشہیری مہم کے دوران عوام کے سامنے پیش کیا تھا۔ اس کے ذریعے یہ تاثر دیا گیا کہ پانچ سال بعد یہ علاقہ جدید بلند عمارتوں یعنی اسکائی اسکریپرز اور ہائی رائز عمارتوں کے ساتھ لاہور کی Urban Skyline کو عالمی معیار کے نئی شکل دے دے گا۔ آج پانچ سال بعد ان دعوؤں اور موجودہ زمینی حقائق  کا موازنہ ہر شخص اس مقام پر جا کر خود کر سکتا ہے۔
(جاری ہے، باقی اگلی قسط میں)
 

0
Views
48
13

مزید زمینی حقائق

Image

ثابت کیا جاۓ کہ نیٹ میٹرنگ توانائی بحران کی اصل وجہ ہے. حکومت اعداد و شمار شائع کرے۔

پاکستان میں آج کل بجلی اور سولر کے معاملے پر جو بحث جاری ہے، اسے بہتر طور پر سمجھنے کے لیے ہمیں اسپین کے سولر بحران کا مطالعہ ایک اہم مثال فراہم کرتا ہے۔ یہ واقعہ آج بھی دنیا بھر کے پالیسی سازوں کے...


Image

مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ نیٹ میٹرنگ پالیسی میں تبدیلی پر چیئرمین نیپرا کو گرفتار کیا جائے

سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ چیئرمین نیپرا کو سینیٹ میں طلب کیا جائے اور انہیں جیل بھیجا جائے، کیونکہ ان کے بقول وہ ایک خودمختار ریگولیٹر کے طور پر کام کرنے کے بجائے حکومتی ہدایات کے تحت فیصلے کر رہے ہ...


Image

اسلام آباد میں 80 ہزار سے زائد درختوں کی کٹائی کا معاملہ:

اسلام آباد میں پولن الرجی کے مسئلے کے خاتمے کے لیے اس وقت پیپر ملبری( جنگلی شہتوت) کے درختوں کی کٹائی ہر ایک بڑی اور متنازع مہم جاری ہے۔ اور عدالتی اور عوامی سطح پر بحث کا باعث بنی ہوئی ہے، کیونک...


Image

پائپ لائن گیس یا سلنڈر گیس؟

▫️ ہم ایک مضبوط پائپ لائن نیٹ ورک سے غیر محفوظ سلنڈر کلچر کی طرف کیوں جا رہے ہیں؟ ▫️ دنیا کے بیشتر ترقی یافتہ ممالک میں رہائشی گھروں کے اندر گیس سلنڈر رکھنا سخت ضابطوں کے تحت محدود یا عملاً ممنوع ...


Image

پنجاب میں شہروں کی زوننگ تبدیل کر کے دولت بنانے کا نیا کھیل: کس کو فائدہ، کس کو نقصان؟

ریذیڈنشل علاقوں کو کمرشل میں بدلنے کا کاروبار کون فیصلے کر رہا ہے؟ کون فائدہ اٹھا رہا ہے؟ اس کا شہر پر، ٹریفک پر، اور عام شہری پر کیا اثر ہو رہا ہے ایک رہائشی علاقے میں سرکاری و کمرشل دفاتر کا ق...


مصنف کے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے آرٹیکلز

Article Image

سمجھدار قیادت گالی کا جواب کبھی طاقت یا سختی سے نہیں، عقلمندی سے دیتی ہے۔

لاہوری چاچا، ایک شخص نہیں، ایک استعارہ بن گیا ہے، ایک ایسا آئینہ جس میں بہت سے من چلے اور مایوس افراد اپنا چہرہ دیکھ رہے ہیں۔


Article Image

دریا کی زمین ۔ پہلی قسط

لاہور میں دریا کی زمین (River Bed) پر ہاؤسنگ اسکیمیں بنانے کا انکشاف ▫️پارک ویو سوسائٹی اور Ruda (راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی) کی منظور شدہ سوسائیٹیز کا مستقبل کیا ہے؟


Article Image

کیا قربانی جانوروں کی نسل کو خطرے میں ڈال رہی ہے یا ان کی افزائش میں مدد دیتی ہے؟

پاکستان میں ہر سال عید الاضحیٰ کے موقع پر لاکھوں جانور قربان کیے جاتے ہیں۔ سال 2024 میں، پاکستان ٹینرز ایسوسی ایشن کے مطابق تقریباً 68 لاکھ (6.8 ملین) جانور قربان کیے گئے، جن کی تفصیل درج ذیل ہے: