Logo

Syed Shayan Real Estate Archive

Logo

From Real Estate History

28 July

Home
2 Historical Event found for 28 July
1

28 جولائی 1893

اسپین میں دنیا کے پہلے ٹرانسپورٹر برج کا افتتاح، شہری رابطے کا نیا دور شروع

اسپین میں دنیا کے پہلے ٹرانسپورٹر برج کا افتتاح، شہری رابطے کا نیا دور شروع

28 جولائی 1893 کو اسپین کے شمالی علاقے میں ویزکایا برج عوام کے لیے کھول دیا گیا۔ اسے دنیا کا پہلا ٹرانسپورٹر برج قرار دیا جاتا ہے، جس نے پلوں کی تعمیر، شہری رابطے اور صنعتی علاقوں کے درمیان آمدورفت کا ایک نیا طریقہ متعارف کرایا۔

یہ پل بلباؤ کے قریب دریائی دہانے پر پرتگالیتے اور گیتشو کے شہری علاقوں کو ملاتا ہے۔ روایتی پل کے برعکس اس کے بلند فولادی ڈھانچے کے نیچے ایک لٹکتا ہوا پلیٹ فارم یا گونڈولا چلتا ہے، جو مسافروں اور گاڑیوں کو دریا کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک پہنچاتا ہے۔ اس ڈیزائن سے بڑے بحری جہازوں کی آمدورفت میں رکاوٹ پیدا نہیں ہوتی تھی۔

پل کو باسک معمار البرٹو ڈی پلاسیو نے ڈیزائن کیا تھا۔ اس میں لوہے اور فولادی تاروں کی نئی تکنیک استعمال کی گئی، جس نے بعد کے عشروں میں دنیا کے مختلف ممالک میں ٹرانسپورٹر پلوں کے ڈیزائن کو متاثر کیا۔

اسپین کی خانہ جنگی کے دوران نقصان کے باعث پل 1937 سے 1941 تک بند رہا، لیکن بحالی کے بعد دوبارہ فعال کردیا گیا۔ بعد میں اس کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کیا گیا اور حفاظتی نظام بہتر بنائے گئے۔ ویزکایا برج کو 2006 میں یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کیا گیا اور یہ آج بھی ایک فعال سفری رابطہ ہے۔

رئیل اسٹیٹ اور شہری منصوبہ بندی کے نقطہ نظر سے ویزکایا برج اس اصول کی نمایاں مثال ہے کہ شہروں کی ترقی صرف نئی عمارتوں سے نہیں ہوتی۔ بہتر سڑکیں، پل اور سفری رابطے رہائشی اور تجارتی علاقوں کو ایک دوسرے کے قریب لاتے اور شہری زمین کے استعمال کو زیادہ مؤثر بناتے ہیں۔

Views
2
2

28 جولائی 1976

تانگ شان زلزلے میں چینی شہر تباہ، محفوظ تعمیر نو کا تاریخی سفر شروع

تانگ شان زلزلے میں چینی شہر تباہ، محفوظ تعمیر نو کا تاریخی سفر شروع

28 جولائی 1976 کی صبح 3 بج کر 42 منٹ پر چین کے صوبہ ہیبے کے صنعتی شہر تانگ شان میں شدید زلزلہ آیا۔ زلزلے کی شدت تقریباً 7.8 ریکارڈ کی گئی اور اس نے چند لمحوں میں شہر کے بیشتر رہائشی، تجارتی اور سرکاری ڈھانچے کو تباہ یا ناقابل استعمال کردیا۔

زلزلے کے وقت زیادہ تر شہری گھروں میں سو رہے تھے۔ عمارتیں گرنے کے ساتھ بجلی، پانی، مواصلات، سڑکوں، ریلوے لائنوں اور پلوں کا نظام بھی شدید متاثر ہوا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تقریباً دو لاکھ 40 ہزار افراد جان سے گئے، جس کے باعث اسے جدید تاریخ کے مہلک ترین زلزلوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

تباہی کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ بہت سی عمارتیں شدید زلزلے کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار نہیں تھیں۔ کمزور تعمیر، غیر مضبوط دیواریں اور زلزلہ مزاحم ڈیزائن کی کمی نے نقصان میں اضافہ کیا۔ اس سانحے نے واضح کردیا کہ عمارت کی خوب صورتی یا کم قیمت سے زیادہ اہم اس کی ساختی مضبوطی اور تعمیراتی قوانین پر عمل ہے۔

زلزلے کے بعد تانگ شان کی تعمیر نو کے لیے ایک وسیع منصوبہ شروع کیا گیا۔ تعمیراتی ڈیزائن کو معیاری بنانے، تیار شدہ تعمیراتی حصوں کے استعمال، نئی سڑکوں، مضافاتی آبادیوں اور شہری سہولیات کی بحالی کو ترجیح دی گئی۔ 1986 تک شہر کی بڑی تعمیر نو تقریباً مکمل ہونے کا اعلان کیا گیا۔

آج تانگ شان جدید عمارتوں، صنعتی علاقوں، کشادہ سڑکوں اور زلزلے کی یادگاروں کے ساتھ دوبارہ آباد شہر ہے۔ اس واقعے کا بنیادی رئیل اسٹیٹ سبق یہ ہے کہ محفوظ زمین کا انتخاب، مضبوط بنیاد، تعمیراتی معیار، کھلی جگہیں، ہنگامی راستے اور قانون پر سخت عمل کسی بھی شہر کے لیے لازمی ہیں۔

Views
5

مزید خبریں "On This Date" سے