🔳 پاکستان میں آئی پی پیز (IPPs) لگانے کے تصور کے خالق شاہد حسن خان سے ایک انٹرویو
عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 40
موضوع: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہوگا؟
عنوان: پاور پالیسی 1994، امپورٹڈ فنانسنگ ماڈل اور ٹیکنوکریٹ شاہد حسن خان کا کردار
🔺 جب ادارے حقائق کی فراہمی سے گریزاں ہوں تو سچ تک پہنچنے کی کوشش عوامی ذمہ داری بن جاتی ہے۔
انٹرویو: سید شایان
1993 میں بے نظیر بھٹو کی حکومت نے شدید لوڈشیڈنگ سے نمٹنے کے لیے شاہد حسن خان کی سربراہی میں ’پرائم منسٹرز ٹاسک فورس آن انرجی‘ قائم کی۔ اور اسی ٹاسک فورس کی سفارشات کی بنیاد پر 13 فروری 1994 کو پاور جنریشن پالیسی 1994 منظور کی گئی، جس کا بنیادی مقصد نجی سرمایہ کاری کے ذریعے کم سے کم وقت میں بجلی کی پیداوار بڑھانا تھا۔
اس پالیسی کے تحت غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ڈالر انڈیکسیشن، کیپیسٹی پیمنٹس، ٹیک اور پے، فیول پاس تھرو، ٹیکس مراعات اور دیگر ضمانتیں دی گئیں تاکہ وہ پاکستان میں سرمایہ کاری کریں۔
اس پالیسی کے نتیجے میں ملک میں بڑے پیمانے پر غیر ملکی سرمایہ کاری آئی اور لوڈشیڈنگ میں نمایاں کمی ہوتی چلی گئی۔ لیکن بعد کے برسوں میں یہی شرائط، خاص طور پر ڈالر انڈیکسیشن، کیپیسٹی پیمنٹس، درآمدی ایندھن پر انحصار اور حکومتی ضمانتیں، پاکستان کے پاور سیکٹر اور معیشت پر بوجھ بن گئیں اور عوام کے بلوں سے حکومت نے پیسہ نکلوا کر آئی پی پیز کو دینا شروع کیا۔
ہماری سوچ یہ تھی کہ چند نئے پاور پلانٹس لگا کر یہ شارٹ فال پورا کر دیا جائے اور ملک کو فوری طور پر لوڈشیڈنگ سے نکال لیا جائے۔ اس کے بعد ہم بتدریج اپنے انرجی مکس کو بہتر کرتے چلے جائیں گے اور خاص طور پر پانی سے بجلی بنانے پر زیادہ فوکس کرکے ہم پاکستان کو بجلی کے بحران سے نکال لیں گے۔ انہوں نے کہا:
“آئی پی پیز کے ذریعے بجلی حاصل کرنا ایک ہنگامی حل تھا۔ جیسے کسی شدید بیمار مریض کو وقتی طور پر وینٹی لیٹر پر رکھا جاتا ہے۔ وینٹی لیٹر کے اپنے نقصانات ہوتے ہیں، مگر اس وقت پہلی ترجیح مریض کی جان بچانا ہوتی ہے۔ اسی طرح ہمیں معلوم تھا کہ کیپیسٹی پیمنٹس، ڈالر انڈیکسیشن، ٹیک اور پے، ریٹرن آن ایکویٹی، امپورٹڈ فیول اور سوورن گارنٹیز جیسی شرائط مستقبل میں معیشت پر ایک بوجھ بن سکتی ہیں۔ لیکن اس وقت ڈالر نسبتاً مستحکم تھا، تیل بھی سستا تھا اور ہمارے سامنے فوری ہدف ملک کو اندھیروں سے نکالنا تھا۔”
چنانچہ ہم نے انہی چند سخت شرائط کے ساتھ محدود پیمانے پر آئی پی پیز لانے کی سفارش کی تاکہ تقریباً 3000 میگاواٹ کا شارٹ فال پورا ہو جائے اور ملک معمول کی طرف واپس آ سکے۔
ہم نے نہ کبھی اندھا دھند پاور پلانٹس لگانے کی سفارش کی اور نہ ہی یہ ہماری پالیسی کا مقصد تھا۔ ہماری تجویز صرف اتنی اضافی بجلی پیدا کرنے کی تھی جتنی فوری بحران سے نکلنے کے لیے ضروری تھی۔ اس کے بعد اگلا مرحلہ ٹرانسمیشن سسٹم کو مضبوط بنانے اور سستی مقامی توانائی، خصوصاً پن بجلی، کی طرف جانا تھا۔
شاہد حسن خان نے مزید کہا:
دیکھیے، اس زمانے میں ہمارے پاس کوئی مثالی آپشن نہیں تھا۔ ملک کے پاس سرمایہ نہیں تھا، واپڈا کے حالات بہت ابتر تھے، لیکن بجلی کی ضرورت فوری تھی۔ اگر نجی سرمایہ کاری لانی تھی تو سرمایہ کار کو کچھ ضمانتیں دینا ناگزیر تھیں۔ اسی لیے کیپیسٹی پیمنٹس، ریٹرن آن ایکویٹی، ڈالر انڈیکسیشن، ٹیک اور پے، امپورٹڈ فیول اور سوورن گارنٹیز جیسی شقیں پالیسی کا حصہ بنیں۔ یہ سرمایہ کار کو راغب کرنے کے لیے تھیں، نہ کہ ملک پر ہمیشہ کے لیے بوجھ ڈالنے کے لیے۔”
انہوں نے کہا، “ہم نے پوری دیانت داری سے اپنے تجربے کی بنیاد پر یہ پالیسی بنائی۔ اس کا مقصد صرف اتنا تھا کہ محدود مدت میں تقریباً 3000 میگاواٹ اضافی بجلی حاصل کرکے ملک کو لوڈشیڈنگ سے نکالا جائے۔ الحمدللہ، ہم اس میں کامیاب بھی ہوئے اور بہت کم عرصے میں پاکستان اندھیروں سے نکل آیا۔ ہمیں یقین تھا کہ اب اگلا مرحلہ ٹرانسمیشن سسٹم کو مضبوط بنانے اور پن بجلی سمیت مقامی توانائی کے ذرائع کی طرف جانے کا ہوگا۔
لیکن اسی دوران ہماری حکومت ختم ہوگئی۔ بعد میں آنے والی حکومتوں نے ہماری پاور پالیسی کی اصل روح کو سمجھنے کے بجائے صرف اس میں دی گئی مراعات پر توجہ دی۔ شاید ان کا خیال تھا کہ اگر چند آئی پی پیز سے اتنی کامیابی ملی ہے تو زیادہ آئی پی پیز سے اس سے بھی زیادہ فائدہ ہوگا۔ چنانچہ ملک کی حقیقی بجلی کی ضرورت، پاکستان کے کمزور ٹرانسمیشن سسٹم اور مستقبل میں پیدا ہونے والے مالی بوجھ کو نظر انداز کرتے ہوئے ایک کے بعد ایک آئی پی پی کی منظوری دی جاتی رہی۔
انہوں نے کہا، “جہاں تک پن بجلی (Hydropower) کا تعلق ہے، وہ یقیناً ہماری ترجیح تھی، لیکن بڑے ڈیم اور ہائیڈل منصوبوں کی تکمیل میں کئی سال لگتے ہیں، جبکہ پاکستان کو بجلی اسی وقت درکار تھی، دس سال بعد نہیں۔”
انہوں نے مزید کہا، “اسی لیے ہم نے فوری ضرورت پوری کرنے کے لیے تھرمل پاور کو منتخب کیا۔ اس وقت دنیا کے بیشتر نئے پاور پلانٹس بھی تھرمل ٹیکنالوجی پر ہی لگ رہے تھے۔ ہمارا مقصد مستقل طور پر درآمدی ایندھن پر انحصار کرنا نہیں تھا، بلکہ فوری بحران سے نکلنا تھا۔ بعد کے مراحل میں توانائی کے ذرائع کا توازن بہتر بنایا جانا تھا۔”
شاہد حسن خان نے مزید کہا:
اور جہاں تک کیپیسٹی پیمنٹس (Capacity Payments) کا تعلق ہے تو پہلے یہ سمجھنا ہوگا کہ یہ دراصل کس چیز کی ادائیگی ہیں۔ ان کے پیچھے ایک ایسا اثاثہ موجود ہوتا ہے جس کی مشینری، قرض اور سرمایہ کاری بڑی حد تک ڈالر میں ہوتی ہے۔ جب اثاثہ اور اس سے وابستہ مالی ذمہ داریاں ڈالر میں ہوں تو سرمایہ کار اپنی اصل سرمایہ کاری اور منافع کو بھی اسی بنیاد پر محفوظ رکھنا چاہتا ہے۔ اسی لیے اس وقت ہمارے نزدیک ڈالر انڈیکسیشن کوئی غیر معمولی یا انوکھا تصور نہیں تھا بلکہ بین الاقوامی سرمایہ کاری میں ایک تسلیم شدہ طریقۂ کار تھا۔
شاہد حسن خان کا کہنا تھا، “میں اپنی ایک بات پھر دہراؤں گا جو ابتدا میں بھی کہی تھی۔ ہماری سوچ یہ نہیں تھی کہ یہ ماڈل ہمیشہ کے لیے چلتا رہے گا۔ ہمارے نزدیک یہ ایک ہنگامی انتظام تھا، بالکل ایسے جیسے کسی مریض کو وقتی طور پر وینٹی لیٹر پر رکھا جاتا ہے۔ مقصد صرف یہ تھا کہ پاکستان فوری توانائی کے بحران سے نکل آئے۔ اس کے بعد حالات بہتر ہونے پر توانائی کے شعبے کو بتدریج زیادہ پائیدار بنیادوں پر منتقل کیا جانا تھا، لیکن بدقسمتی سے بے نظیر بھٹو کی حکومت ہی برخاست کر دی گئی۔”
(واضح رہے کہ یہ شاہد حسن خان کا مؤقف ہے، مگر زمینی حقائق اس سے مختلف تصویر پیش کر رہے ہیں۔ جو ماڈل ہنگامی بنیادوں پر ایک عارضی انتظام کے طور پر متعارف کرایا گیا تھا، وہ بعد میں مستقل پالیسی کی شکل اختیار کر گیا۔ حکومتیں بدلتی رہیں، لوگ آتے جاتے رہے، مگر یہ نظام برقرار رہا۔ نتیجتاً ڈالر انڈیکسیشن اور کیپیسٹی پیمنٹس آج بھی پاکستان کے بجلی کے شعبے پر ایک بھاری بوجھ بنے ہوئے ہیں، جس کی قیمت ملکی معیشت اور عام صارفین مہنگی بجلی کی صورت میں ادا کر رہے ہیں۔)
“اس دور میں بجلی صرف پانی سے پیدا نہیں ہوتی تھی بلکہ واپڈا کے اپنے تھرمل پاور پلانٹس بھی موجود تھے۔”
“میرٹ آرڈر کا اصول یہ تھا کہ بجلی کی طلب پوری کرنے کے لیے سب سے پہلے کم ترین پیداواری لاگت والا پلانٹ چلایا جائے۔ عموماً پن بجلی پہلے آتی تھی، پھر نسبتاً سستی گیس سے بننے والی بجلی، اس کے بعد فرنس آئل یا دوسرے مہنگے ایندھن والے پلانٹس۔ جیسے جیسے طلب بڑھتی جاتی، مہنگے پلانٹس بھی چلانے پڑتے تھے۔ اس طرح پورے نظام کی مجموعی پیداواری لاگت کم رکھنے کی کوشش کی جاتی تھی۔”
“آج بھی میرٹ آرڈر کا اصول ختم نہیں ہوا۔ سورج، ہوا اور پانی سے بننے والی بجلی کی فیول کاسٹ بہت کم ہوتی ہے، اس لیے اسے ترجیحی بنیاد پر گرڈ میں لیا جاتا ہے۔ لیکن صارف کو صرف اس بجلی کی پیداواری قیمت کا بل نہیں دیا جاتا۔ حتمی ٹیرف میں تمام ذرائع سے خریدی گئی بجلی کی اوسط قیمت، کیپیسٹی پیمنٹس، ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کے اخراجات، نقصانات، سرچارجز اور ٹیکس بھی شامل ہوتے ہیں۔”
“اسی لیے سولر یا ونڈ کی سستی بجلی کا فائدہ صارف کو الگ سے نظر نہیں آتا۔ وہ سستی بجلی مجموعی باسکٹ (Energy Mix) کی قیمت کو کچھ کم ضرور کرتی ہے، لیکن ساتھ ہی ایسے مہنگے آئی پی پیز کی کیپیسٹی پیمنٹس بھی ادا کرنا پڑتی ہیں جن سے بجلی لی جائے یا نہ لی جائے۔ جب ضرورت سے زیادہ پلانٹس لگا دیے جائیں تو ان کی مقررہ ادائیگیاں سستی بجلی سے حاصل ہونے والے فائدے کا بڑا حصہ ختم کر دیتی ہیں۔”
“اصل مسئلہ یہ نہیں کہ سولر، ونڈ اور پن بجلی بھی کوئلے یا تیل جتنی مہنگی پیدا ہوتی ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ صارف کو پورے پاور سسٹم کی مشترکہ لاگت ادا کرنا پڑتی ہے۔”
آئی پی پیز کے نظام کے بعد صارف پر بجلی کی قیمت کے ساتھ کیپیسٹی چارجز، مختلف ٹیکسز، سرچارجز اور دیگر اضافی اخراجات بھی ڈال دیے گئے، تاکہ یہ تمام رقوم صارفین سے وصول کرکے آئی پی پیز کو ادا کی جا سکیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ بجلی کا بل عام آدمی کی استطاعت سے باہر ہوتا چلا گیا اور اس اضافی مالی بوجھ نے اس کی کمر توڑ دی۔
سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ عوام بجلی کی قیمت بھی ادا کر رہے ہیں، ٹیکس بھی دے رہے ہیں، کیپیسٹی چارجز بھی برداشت کر رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود لوڈشیڈنگ ہے کہ ختم ہونے کا نام نہیں لیتی اور کئی علاقوں میں آج بھی صورت حال پہلے جیسی بلکہ اس سے بھی بدتر ہے۔
اگر عوام نے مہنگی بجلی، اضافی ٹیکسز اور اربوں روپے کے کیپیسٹی چارجز بھی ادا کرنے تھے اور لوڈشیڈنگ بھی برداشت کرنی تھی تو پھر اس پورے آئی پی پی ماڈل سے ملک اور عوام کو آخر فائدہ کیا ہوا؟ ہمارے اس سوال کے جواب میں شاہد حسن خان نے کیا کہا؟ یہ پڑھیے اگلی قسط میں۔
(جاری ہے، باقی آئندہ)
Thanks for sharing this informative article, I am waiting for the next article what did Shahid Hasan Khan says in the response.
Great work